نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 289

۲۸۹ نبیوں کا سردار بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زورِ بازو سے ، ملے ہیں؟ ایسا ہر گز نہیں تمہاری قومی طاقت اور تمہارے مال سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے اللهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِيْنًا وَآمِثْنِي مِسْكِيْنًا وَاحْشُرُ لَ فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَومَ الْقِيَامَةِ یعنی اے الله ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین ہونے کی حالت میں وفات دے اور مساکین کے زمرہ میں ہی قیامت کے دن مجھے اُٹھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر نہایت بدصورت بھی تھے گرمی کے موسم میں بوجھ اٹھا اُٹھا کر ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کر رہے تھے۔ایک طرف اُن کا چہرہ بدصورت تھا تو دوسری طرف گردوغبار اور پسینہ کی وجہ سے وہ اور بھی بد نما نظر آرہا تھا۔عین اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور آپ نے اُن کے چہرہ پر افسردگی کی علامتیں دیکھیں۔آپ خاموشی سے اُن کے پیچھے چلے گئے اور جیسے بچے آپس میں کھیلتے وقت چوری چھپے پیچھے سے جا کر کسی دوست کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتے اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اندازہ لگا کر بتائے کہ کس شخص نے اُس کی آنکھیں بند کی ہیں اسی طرح آپ نے اُن کی آنکھوں پر جا کر ہاتھ رکھ دیا۔اس نے اپنے ہاتھ سے آپ کے بازو اور جسم کو ٹولنا شروع کیا اور سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یوں بھی وہ سمجھتا تھا کہ اتنے غریب، اتنے بدصورت اور اتنے بخاری کتاب الجهاد باب من استعان بالضعفاء (الخ) ترمذی ابواب الزهد باب ماجاء ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة (الخ)