نبیوں کا سردار ﷺ — Page 288
۲۸۸ نبیوں کا سردار ہو؟ اس پر اُن غلاموں نے جواب دیا اے ہمارے بھائی! ہم ناراض نہیں ہوئے خدا آپ کا قصور معاف کرے لیے مگر جہاں آپ غرباء کی عزت اور ان کے احترام کو قائم کرتے اور اُن کی ضرورتیں پوری فرماتے تھے وہاں آپ اُن کو عزت نفس کا بھی سبق دیتے تھے اور سوال کرنے سے منع فرماتے تھے۔چنانچہ آپ ہمیشہ فرماتے تھے کہ مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں یا ایک لقمہ یا دو لقے تسلی دے دیں۔مسکین وہ ہے کہ خواہ کتنی ہی تکلیفوں سے گزرے سوال نہ کرے۔آپ اپنی جماعت کو یہ بھی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ ہر وہ دعوت جس میں غرباء نہ بلائے جائیں وہ بدترین دعوت ہے۔سے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اُس وقت ہمارے گھر میں سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ تھا میں نے وہی کھجور اُس کو دے دی۔اُس نے وہ کھجور آدھی آدھی کر کے دونوں لڑکیوں کو کھلا دی اور پھر اُٹھ کر چلی گئی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غریب کے گھر میں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔خدا تعالیٰ اُسے قیامت کے دن عذاب دوزخ سے بچائے گا۔پھر فرمایا۔اللہ تعالیٰ اُس عورت کو اس فعل کی وجہ سے جنت کا مستحق بنائے گا۔ہے اسی طرح ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ایک صحابی سعد جو مالدار تھے وہ مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل سلمان و بلال (الخ) بخاری کتاب الزكوة و كتاب الكروب باب قول الله تعالى عز وجل لا يسئلون الناس الحافا سے بخاری کتاب النکاح باب من ترك الدعوة (الخ) مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الاحسان الى البنات