نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 252

۲۵۲ نبیوں کا سردار میری روحانی آنکھیں کھل گئیں اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں تب میرے گھٹنے کانپ گئے اور میں نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا ہے وہ شخص جو تلوار سے ابوبکر کو مارنا چاہتا تھا وہ اب ابوبکر کے صداقت بھرے لفظوں کے ساتھ خود قتل ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمہ میں یہ آیت ہمیں بھول ہی گئی تھی۔اُس وقت حسان بن ثابت نے جو مدینہ کے ایک بہت بڑے شاعر تھے یہ شعر کہا۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِئَ فَعَمِيَ عَلَى مَنْ شَائَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے، میرا باپ مرے، میرا بھائی مرے، میرا بیٹا مرے، میری بیوی مرے مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں۔میں تو تیری ہی موت سے ڈرا کرتا تھا۔النَّاظِر یہ شعر ہر مسلمان کے دل کی آواز تھا۔اس کے بعد کئی دنوں تک مدینہ کی گلیوں میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مسلمان بچے یہی شعر پڑھتے پھرتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا تیرے مرنے سے ہم تو اندھے ہو گئے۔اب ہمارا کوئی عزیز اور قریبی رشتہ دار مرے ہمیں پرواہ نہیں۔ہمیں تو تیری ہی موت کا خوف تھا۔اللهم صلى على محمد و على ال محمد و بارك و سلم تاریخ کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحه ۳۲۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء ے دیوان حسان بن ثابت صفحه ۸۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۸ء