نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 224

۲۲۴ نبیوں کا سردار اسلام کی محبت پیدا کر دی ہے تو میں تمہارے گناہوں کو کیوں نہ معاف کروں۔جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا اسلام نے تمہارے سب پہلے قصور مٹادیئے ہیں لے اس جگہ اتنی گنجائش نہیں کہ میں اس مضمون کو لمبا کروں ورنہ ان خطر ناک مجرموں میں سے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی معذرت پر معاف فرما دیا اکثر کے واقعات ایسے دردناک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کو اتنا ظاہر کرنے والے ہیں کہ ایک سنگدل انسان بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔غزوہ حنین چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ اچانک ہوا اس لئے مکہ سے ذرا فاصلے پر جو قبائل رہتے تھے خصوصاً وہ جو جنوب کی طرف رہتے تھے انہیں مکہ پر حملہ کی خبر اُسی وقت ہوئی جب آپ مکہ میں داخل ہو چکے تھے۔اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کر دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کی تیاری کرنے لگے۔ہوازن اور ثقیف دو عرب قبیلے اپنے آپ کو خاص طور پر بہادر خیال کرتے تھے انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کر کے اپنے لئے ایک سردار چن لیا اور مالک بن عوف نامی ایک شخص کو اپنا رئیس مقرر کر لیا۔اس کے بعد اُنہوں نے اردگرد کے قبائل کو دعوت دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ آکر شامل ہو جائیں۔انہی قبائل میں بنو سعد بن بکر بھی تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائی حلیمہ اسی قبیلہ میں سے تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن کی عمر اسی قبیلہ میں گزاری تھی۔یہ لوگ جمع ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ اپنے مال اور ا پنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی لے لیا۔جب ان کے السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۳ صفحه ۱۰۶ مطبوعه مصر ۱۹۳۵ء