نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 97

۹۷ نبیوں کا سردار دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔جب اسلامی لشکر سے اس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابوبکر کو بھی مار دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابوسفیان نے آواز دی ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔تب عمر جو بہت جو شیلے آدمی تھے انہوں نے اُس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور اُن کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔اس پر ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اُخْلُ هُبل - اُعْلُ هُبل۔ہمارے معزز بت ہبل کی شان بلند ہو کہ اُس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی موت کے اعلان پر، ابوبکر کی موت کے اعلان پر اور عمر کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرمارہے تھے تا ایسا نہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر لوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اُس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں۔اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپ کی روح بے تاب ہوگئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہ کی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے کہا یا رَسُولَ اللہ! ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہو اللهُ أَعْلَى وَأَجَلٌ - اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی۔اللہ وَحدَهُ لا شريك ہی معزز ہے اور اُس کی شان بالا ہے۔اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچا دی۔اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اس کے کہ اُن کی بخاری کتاب المغازى باب غزوة أحد + السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۷۰