نبیوں کا سردار ﷺ — Page 91
۹۱ نبیوں کا سردار چند گائیں دیکھی ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ میری تلوار کا سراٹوٹ گیا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ گائیں ذبح کی جارہی ہیں اور پھر یہ کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں۔صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے ان خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہ شہید ہوں گے اور تلوار کا سرا ٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہوگا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مدینہ میں ٹھہر نازیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے یعنی وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا لے گو اس خواب میں مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اُن کا مدینہ میں رہناز یادہ اچھا ہے مگر چونکہ خواب کی تعبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی، الہامی نہیں تھی آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کر لیا اور لڑائی کے لئے باہر جانے کا فیصلہ کر دیا۔جب آپ باہر نکلے تو نو جوانوں کو اپنے دلوں میں ندامت محسوس ہوئی اور انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ! جو آپ کا مشورہ ہے وہی صحیح ہے ہمیں مدینہ میں ٹھہر کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا خدا کا نبی جب زرہ پہن لیتا ہے تو اُتارا نہیں کرتا اب خواہ کچھ ہو ہم آگے ہی جائیں گے۔اگر تم نے صبر سے کام لیا تو خدا کی نصرت تم کومل جائے گی۔یہ کہہ کر آپ ایک ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر رات بسر کرنے کے لئے ڈیرہ لگا دیا۔آپ کا ہمیشہ ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۳۱،۲۳۰ - مطبوعه مصر ۱۹۳۵ بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب و السنة باب قول الله تعالی و امر هم شوری بینهم