نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 81

ΔΙ نبیوں کا سردار کی مراد ہم باشندگانِ مدینہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ! اُس سردار نے جواب میں کہا یا رَسُول اللہ ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب کر رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اب اس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں اور شاید وہ معاہدہ اِن حالات کے ماتحت قائم نہیں رہتا۔یا رَسُول اللہ ! جس وقت وہ معاہدہ ہوا تھا اُس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب جبکہ ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے یا رَسُول اللہ! اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے اِذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُون تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور تیا رسُول اللہ! دشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کیلئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گزرتا ہوا نہ جائے لے يَا رَسُولَ اللہ ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے، یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے آپ ہمیں حکم دیجئے کہ سمند رمیں اپنے گھوڑے ڈال دو اور ہم بلا دریغ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔سے یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کوئی سابق نبی پیش نہیں کر سکتا۔موسیٰ کے ساتھیوں کا حوالہ تو اُن لوگوں نے خود ہی دے دیا تھا حضرت مسیح کے حواریوں نے دشمن کے مقابلہ میں جونمونہ دکھایا انجیل اس پر گواہ ہے۔ایک نے تو چند روپوں پر اپنے بخاری کتاب المغازی باب قصة غزوة بدر سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۶۷۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء