نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 72

۷۲ نبیوں کا سردار طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے مال میں حصہ دار نہ ہوں۔ہاں چونکہ یہ زمیندارہ سے واقف نہیں اور تاجر پیشہ لوگ ہیں اگر یہ ہماری زمینوں سے حصہ نہیں لیتے تو پھر ہماری زمینوں کی جو آمدنیاں ہوں اس میں ضرور ان کو حصہ دار بنایا جائے۔مہاجرین نے اس پر بھی اُن کے ساتھ حصہ دار بنا پسند نہ کیا اور اپنے آبائی پیشہ تجارت میں لگ گئے اور تھوڑے ہی دنوں میں اُن میں سے کئی مالدار ہو گئے۔مگر انصار اس حصہ بٹانے پر اتنے مصر تھے کہ بعض انصار جو فوت ہوئے اُن کی اولادوں نے عرب کے دستور کے مطابق اپنے مہاجر بھائیوں کو مرنے والے کی جائیداد میں سے حصہ دیا اور کئی سال تک اس پر عمل ہوتا رہا۔یہاں تک کہ قرآن کریم میں اس عمل کی منسوخی کا ارشاد نازل ہوا۔مهاجرین وانصار اور یہود کے مابین معاہدہ علاوہ مسلمانوں کو بھائی بھائی بنانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل مدینہ کے درمیان ایک معاہدہ کرایا۔آپ نے یہودیوں اور عربوں کے سرداروں کو جمع کیا اور فرمایا۔پہلے یہاں صرف دو گروہ تھے مگر اب تین گروہ ہو گئے ہیں۔یعنی پہلے تو صرف یہود اور مدینہ کے عرب یہاں بستے تھے مگر اب یہود، مدینہ کے عرب اور مکہ کے مہاجرتین گروہ ہو گئے ہیں۔اس لئے چاہئے کہ آپس میں ایک صلح نامہ قائم ہو جائے۔چنانچہ آپس کے سمجھوتے کے ساتھ ایک معاہدہ لکھا گیا اس معاہدہ کے الفاظ یہ ہیں:۔معاہدہ مابین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مؤمنوں اور اُن تمام ,, لوگوں کے جو اُن سے بخوشی مل جائیں۔مہاجرین سے اگر کوئی قتل ہو جائے تو وہ اُس کے خون کا ذمہ دار خود ہوں گے اور اپنے قیدیوں کو خود چھڑائیں گے اور مدینہ کے مختلف مسلمان