نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 59

۵۹ نبیوں کا سردار ڈرو نہیں خدا ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ابوبکر نے جواب میں کہا یا رسول اللہ! میں اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتا کیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں مارا گیا تو ایک آدمی ہی مارا جائے گا یا رَسُول اللہ ! مجھے تو صرف یہ خوف تھا کہ اگر آپ کی جان کو کوئی گزند پہنچا تو دنیا میں سے روحانیت اور دین کا نام مٹ جائے گا۔آپ نے فرمایا کوئی پرواہ نہیں یہاں ہم دو ہی نہیں ہیں تیسرا خدا تعالیٰ بھی ہمارے پاس ہے۔چونکہ اب وقت آپہنچا تھا کہ خدا تعالیٰ اسلام کو بڑھائے اور ترقی دے اور مکہ والوں کے لئے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور انہوں نے کھوجی سے استہزاء شروع کر دیا اور کہا کیا اُنہوں نے اس کھلی جگہ پر پناہ لینی تھی؟ یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور پھر اس جگہ کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں یہاں کوئی عظمند پناہ لے سکتا ہے اور بغیر اس کے کہ غار میں جھانک کر دیکھتے کھوجی سے ہنسی کرتے ہوئے وہ واپس لوٹ گئے۔دو دن اسی غار میں انتظار کرنے کے بعد پہلے سے طے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی روانہ ہوئے۔ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابوبکر اور ان کا ملازم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اُس مقدس شہر پر جس میں آپ پیدا ہوئے ، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کے آباؤ اجدا در ہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے مکہ کی بستی ! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اُس وقت حضرت ابوبکر نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا ان لوگوں نے