نبیوں کا سردار ﷺ — Page 36
۳۶ نبیوں کا سردار نہیں ہوئی کیوں نہ اسلام کے بانی کو قتل کر دیا جائے اور اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔یہ خیال آتے ہی اُنہوں نے تلوار اُٹھائی اور گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔راستہ میں اُن کا کوئی دوست ملا اور اس حالت میں دیکھ کر کچھ حیران ہوا اور آپ سے سوال کیا کہ عمر ! کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے کہا میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کے لئے جارہا ہوں۔اُس نے کہا کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قبیلہ سے محفوظ رہ سکو گے؟ اور ذرا اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔یہ خبر حضرت عمر کے سر پر بجلی کی طرح گری انہوں نے سوچا میں جو اسلام کا بدترین دشمن ہوں میں جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں میری ہی بہن اور میرا ہی بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں اگر ایسا ہے تو پہلے مجھے اپنی بہن اور بہنوئی سے نپٹنا چاہئے۔یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے جب دروازہ پر پہنچے تو انہیں اندر سے خوش الحانی سے کسی کلام کے پڑھنے کی آوازیں آئیں۔یہ پڑھنے والے خباب جو اُن کی بہن اور اُن کے بہنوئی کو قرآن شریف سکھلا رہے تھے۔عمر تیزی سے گھر میں داخل ہوئے۔اُن کے پاؤں کی آہٹ سن کر خباب تو کسی کو نہ میں چھپ گئے اور اُن کی بہن نے جن کا نام فاطمہ تھا قرآن شریف کے وہ اوراق جو اُس وقت پڑھے جارہے تھے ، چھپا دیئے۔حضرت عمر کمرہ میں داخل ہوئے تو غصہ سے پوچھا میں نے سنا ہے کہ تم اپنے دین سے پھر گئے ہو؟ اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی پر جو اُن کے چازاد بھائی بھی تھے حملہ آور ہوئے۔فاطمہ نے جب دیکھا کہ ان کے بھائی عمر ان کے خاوند پر حملہ کرنے لگے تو وہ دوڑ کر اپنے خاوند کے آگے کھڑی ہوگئیں۔عمر ہاتھ اُٹھا چکے تھے اُن کا ہاتھ زور سے اُن کے بہنوئی کے منہ کی طرف آرہا تھا اور اب اس ہاتھ کو روکنا اُن کی طاقت سے باہر تھا مگر اب ان کے ہاتھ کے سامنے ان کے بہنوئی کی