نبیوں کا سردار ﷺ — Page 32
۳۲ نبیوں کا سردار اور یہ اخلاص سے بھرا ہوا جواب ابو طالب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا۔انہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی لیکن اس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھتیجے ! جا اور اپنا فرض ادا کرتارہ۔قوم اگر مجھے چھوڑ نا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا ہے حبشہ کی طرف ہجرت جب مکہ والوں کا ظلم انتہاء کو پہنچ گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے ساتھیوں کو بلوایا اور فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا۔مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا وہاں ایک منصف بادشاہ ہے، تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے۔کچھ مسلمان مرد اور عورتیں اور بچے آپ کے اس ارشاد پر ایسے سینیا کی طرف چلے گئے۔ان لوگوں کا مکہ سے نکلنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔مکہ کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا ان کے لئے ایک نا قابلِ برداشت صدمہ تھا۔وہی شخص یہ بات کہہ سکتا تھا جس کے لئے دنیا میں کوئی اور ٹھکانہ باقی نہ رہے۔پس ان لوگوں کا نکلنا ایک نہایت ہی درد ناک واقعہ تھا۔پھر نکلنا بھی اُن لوگوں کو چوری ہی پڑا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مکہ والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ ہمیں نکلنے نہیں دیں گے اور اس وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی آخری ملاقات سے بھی محروم جار ہے تھے۔اُن کے دلوں کی جو حالت تھی سوتھی ، اُن کے دیکھنے والے بھی ان کی تکلیف سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔چنانچہ جس وقت یہ قافلہ نکل رہا تھا حضرت عمر جو اُس وقت تک کافر ے سیرت ابن ہشام جلد ا صفحہ ۲۸۵،۲۸۴۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء