نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 31

۳۱ نبیوں کا سردار کسی بات سے نہیں روکتے۔ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دے۔وہ بیشک کہے خدا ایک ہے مگر یہ نہ کہے کہ ہمارے بت برے ہیں۔اگر وہ اتنی بات مان لے تو ہماری اس سے صلح ہو جائے گی۔آپ اُسے سمجھا ئیں اور ہماری تجویز کے قبول کرنے پر آمادہ کریں۔ورنہ پھر دو باتوں میں سے ایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا یا آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی۔ابوطالب کے لئے یہ بات نہایت ہی شاق تھی۔عربوں کے پاس روپیہ پیسہ تو تھوڑا ہی ہوتا تھا ان کی ساری خوشی اُن کی ریاست میں ہوتی تھی۔رؤساء قوم کے لئے زندہ رہتے تھے اور قوم رؤساء کے لئے زندہ رہتی تھی۔یہ بات سن کر ابو طالب بیتاب ہو گئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! میری قوم میرے پاس آئی ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر تمہارا بھتیجا ان باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی راضی نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے ہر ایک قسم کی پیشکش ہو چکی ہے اگر وہ اس پر بھی اپنے طریقہ سے باز نہیں آتا تو آپ کا کام ہے کہ اسے چھوڑ دیں اور اگر آپ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر ہم لوگ آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دیں گے۔جب ابو طالب نے یہ بات کی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُن کے آنسوؤں کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چا! میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔لیکن مجھے خدائے وحدة لا شريك كى قسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خدا مجھے موت دے۔آپ اپنی مصلحت کو خودسوچ لیں۔یہ ایمان سے پر