نبیوں کا سردار ﷺ — Page 296
۲۹۶ نبیوں کا سردار ہے حالانکہ عائشہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر پیاری ہے۔دیکھ آخر تو نے وہی مصیبت سہیڑ لی جس کا مجھے خوف تھا۔یہ کہہ کر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔آپ کے جسم پر کر تہ نہ تھا اور آپ کے سینہ اور کمر پر چٹائی کے نشان بنے ہوئے تھے میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ قیصر و کسری کہاں مستحق ہیں اس بات کے کہ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں ملیں مگر وہ تو کس آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کے رسول کو یہ تکلیف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمرا یہ درست نہیں اس قسم کی زندگیاں خدا کے رسولوں کی نہیں ہوتیں یہ دنیا دار بادشاہوں کا شغل ہے۔پھر میں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا جو میری بیوی اور بیٹی کے ساتھ گزرا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری باتیں سن کر ہنس پڑے اور فرمایا عمر! یہ بات درست نہیں کہ میں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔میں نے تو صرف ایک مصلحت کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اپنے گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔عورتوں کے جذبات کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ نماز میں آپ کو ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھا کر ختم کر دی پھر فرمایا ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تھی میں نے کہا اس کی ماں کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی چنانچہ میں نے نماز جلدی ختم کر دی تا کہ ماں اپنے بچہ کی خبر گیری کر سکے۔سے جب آپ ایسے سفر پر جاتے جس میں عورتیں بھی ساتھ ہوتیں تو ہمیشہ آہستگی سے چلنے کا حکم دیتے۔ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر جبکہ سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اور ا بخاری کتاب النکاح باب موعظة الرجل ابنته (الخ) بخاری کتاب الاذان باب من اخف الصلوة (الخ)