نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 295

۲۹۵ نبیوں کا سردار ورثہ میں اور بعض صورتوں میں بہنیں بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔اسلام سے پہلے دنیا کے کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے۔اسی طرح آپ نے عورت کو اس کے مال کا مستقل مالک قرار دیا ہے خاوند کوحق نہیں کہ خاوند ہونے کی وجہ سے عورت کے مال میں دست اندازی کر سکے۔عورت اپنے مال کے خرچ کرنے میں پوری مختار ہے۔عورتوں سے حسن سلوک میں آپ ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب لوگ جو اس بات کے عادی نہ تھے ان کو یہ بات دیکھ کر ٹھو کر لگتی تھی۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بعض دفعہ میری باتوں میں دخل دیتی تو میں اُس کو ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگوں نے کبھی عورتوں کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ مردوں کو اُن کے کاموں میں مشورہ دیں۔اس پر میری بیوی کہا کرتی کہ جاؤ جاؤ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں اور آپ اُن کو کبھی نہیں روکتے تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ اس پر میں اُسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت لاڈلی ہے اُس کا ذکر نہ کرو، باقی رہی تمہاری بیٹی سو اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنی گستاخی کی سزا کسی دن پائے گی۔ایک دفعہ جب کسی بات سے ناراض ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ دن آپ گھر سے باہر رہیں گے اور بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے اور مجھے اس کی خبر ملی تو میں نے کہا دیکھو جو میں کہتا تھا وہی ہو گیا۔میں اپنی بیٹی حفصہ کے گھر میں گیا تو وہ رو رہی تھیں۔میں نے کہا حفصہ ! کیا ہوا؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کی وجہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گھر میں نہیں آئیں گے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حفصہ! میں تجھے پہلے نہیں سمجھایا کرتا تھا کہ تو عائشہ کی نقلیں کرتی