نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 287

۲۸۷ نبیوں کا سردار ایک غریب عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دن اُس کو نہ دیکھا تو آپ نے پوچھا وہ عورت نظر نہیں آتی۔لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا جب وہ فوت ہوگئی تھی تو تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی کہ میں بھی اُس کے جنازہ میں شامل ہوتا پھر فرمایا شاید تم نے اس کو غریب سمجھ کر حقیر جانا۔ایسا کرنا درست نہیں تھا مجھے بتاؤ اس کی قبر کہاں ہے پھر آپ اُس کی قبر پر گئے اور اُس کے لئے دعا کی لے آپ فرمایا کرتے تھے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے سر کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور اُن کے جسموں پر مٹی پڑی ہوتی ہے اگر وہ لوگوں سے ملنے جائیں تو تو لوگ اپنے دروازے بندکر لیتے ہیں لیکن یے لوگ اگر اللہتعالی کی قسم کھا بیٹھیں تو دا تعالیٰ کو اُن کا اتنا احترام ہوتا ہے کہ وہ ان کی قسم پوری کر کے چھوڑتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ غریب صحابہ جو کسی وقت غلام ہوتے تھے بیٹھے ہوئے تھے۔ابوسفیان اُن کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے اس کے سامنے اسلام کی جیت کا کچھ ذکر کیا۔حضرت ابو بکر سن رہے تھے انہیں یہ بات بُری معلوم ہوئی کہ قریش کے سردار کی ہتک کی گئی ہے اور اُنہوں نے اُن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کیا تم قریش کے سردار اور اُن کے افسر کی ہتک کرتے ہو!! پھر حضرت ابوبکر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر یہی بات شکایت بیان کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر ! شاید تم نے اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کو ناراض کر دیا ہے اگر ایسا ہوا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب بھی تم سے ناراض ہو جائے گا۔حضرت ابو بکر اُسی وقت اُٹھے اور اُٹھ کر اُن لوگوں کے پاس واپس آئے اور کہا اے میرے بھائیو! کیا میری بات سے تم ناراض ہو گئے بخاری کتاب الصلوۃ باب كنس المسجد (الخ) مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الضعفاء