نبیوں کا سردار ﷺ — Page 286
۲۸۶ نبیوں کا سردار ہے۔آپ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا چاہئے۔دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دیا کرو۔لے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ اپنے آپ کو موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے بلکہ مطلب یہ تھا کہ یہ فقرہ کہنے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے موسیٰ پر فضیلت عطا فرمائی ہے یہودیوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔غرباء کا خیال اور اُن کے جذبات کا احترام آپ ہمیشہ غرباء کے حالات کو درست رکھنے کی کوشش رکھتے اور اُن کو سوسائٹی میں مناسب مقام دینے کی سعی فرماتے۔ایک دفعہ آپ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک امیر آپ کے سامنے سے گزرا آپ نے ایک ساتھی سے دریافت کیا کہ اس شخص کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا یہ معزز اور امیر لوگوں میں سے ہے اگر یہ کسی لڑکی سے نکاح کی خواہش کرے تو اس کی درخواست قبول کی جائے گی اور اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش رہے۔اس کے بعد ایک اور شخص گزرا جو غریب اور نادار معلوم ہوتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ساتھی سے پوچھا اس کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ غریب آدمی ہے اور اس لائق ہے کہ اگر یہ کسی کی لڑکی سے نکاح کی درخواست کرے تو اس کی درخواست قبول نہ کی جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے اور اگر یہ باتیں سنانا چاہے تو اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کی جائے۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اس غریب آدمی کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے کہ ساری دنیا سونے سے بھر دی جائے۔سے بخاری کتاب الخصومات باب مايذكر في الاشخاص (الخ) بخاری کتاب الرقاق باب فضل الفقر