نبیوں کا سردار ﷺ — Page 23
۲۳ نبیوں کا سردار کو معاف کر دے گا۔آپ کے والد یا سر اور آپ کی والدہ سمیہ کو بھی کفار بہت دکھ دیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جبکہ اُن دونوں کو دکھ دیا جارہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے۔آپ نے اُن دونوں کی تکلیفوں کو دیکھا اور آپ کا دل درد سے بھر آیا۔آپ اُن سے مخاطب ہو کر بولے صَبراً آلَ يَاسِر فَإِنَّ مَوْعِدَ كُمُ الْجَنَّةَ " اے یاسر کے خاندان ! صبر سے کام لو۔خدا نے تمہارے لئے جنت تیار کر چھوڑی ہے۔اور یہ پیشگوئی تھوڑے ہی دنوں میں پوری ہو گئی کیونکہ یا سر مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر اس پر بھی کفار کو صبر نہ آیا اور اُنہوں نے اُن کی بُڑھیا بیوی سمیہ پر ظلم جاری رکھے۔چنانچہ ابو جہل نے ایک دن غصہ میں اُن کی ران پر زور سے نیزہ مارا جوران کو چیرتا ہوا اُن کے پیٹ میں گھس گیا اور تڑپتے ہوئے انہوں نے جان دے دی۔سے زنبیرہ بھی ایک لونڈی تھیں اُن کو ابو جہل نے اتنا مارا کہ اُن کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ہے ابوفلیہ " صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔اُن کو اُن کا مالک اور اُس کا خاندان گرم تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔یہی حال باقی غلاموں کا بھی تھا۔شے بیشک یہ ظلم انسانی طاقت سے بالا تھے، مگر جن لوگوں پر یہ ظلم کئے جارہے تھے وہ اسد الغابة جلد ۴ صفحه ۴۴ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ سیرت ابن هشام جلدا صفحه ۳۴۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ۳ ۲۰ اسد الغابة جلد ۵ صفحه ۴۸۱ مطبوعه ریاض ۱۲۸۰ھ ه السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۳۴ مطبوع مصر ۱۹۳۲ء