نبیوں کا سردار ﷺ — Page 258
۲۵۸ نبیوں کا سردار آئیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے گھر کے دروازہ پر پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ ایک پانچواں شخص بھی آپ کے ساتھ ہے۔جب گھر والا باہر نکلا تو آپ نے اُس سے کہا کہ آپ نے ہمیں پانچ آدمیوں کو دعوت کیلئے بلایا تھا آپ چاہیں تو اس کو بھی اجازت دے دیں اور چاہیں تو اس کو رخصت کر دیں۔گھر والے نے کہا نہیں میں ان کی بھی دعوت کرتا ہوں یہ بھی اندر آجائیں لے جب آپ کھانا کھاتے تو ہمیشہ بسم اللہ کہ کر شروع کیا کرتے تھے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو ان الفاظ میں خدا کی تعریف فرماتے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمَّدًا كَثِيرًا طَيْبًا مُبَارَكَأْفِيْهِ غَيْرَ مُكْفِي وَلَا مُوَدِّعٍ وَلَا مُسْتَغْنِي عَنْهُ رَبَّنَا۔یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہمیں کھانا عطا کیا۔بہت بہت تعریف، ہر قسم کی ملونی سے خالی تعریف، بڑھتی رہنے والی تعریف۔ایسی تعریف نہیں جس کے بعد انسان سمجھے کہ بس میں تعریف کافی کر چکا بلکہ یہ سمجھے کہ میں نے تعریف کرنے کا حق ادا نہیں کیا اور کبھی تعریف بس نہ کرے۔اور کبھی میرے دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا کام بھی ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں یا جو تعریف کا مستحق نہیں۔اے ہمارے رب ! ہمیں ایسا ہی بنادے۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کبھی ان الفاظ میں دعا کرتے تھے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَارْوَانَا غَيْرَ مُكْفِي وَلَا مَكْفُورٍ سے یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی۔ہمارا دل اُس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اُس کی کبھی ناشکری نہ کریں۔بخاری کتاب الاطعمة باب الرجل يدعى الى طعام (الخ) بخاری کتاب الاطعمة باب ما يقول اذا فرغ من طعامه ے بخاری کتاب الاطعمة باب ما يقول اذا فرغ من طعامه