نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 251

۲۵۱ نبیوں کا سردار ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو جائیں اور دوسری موت آپ پر یہ وارد ہو کہ آپ کی جماعت غلط عقائد اور غلط خیالوں میں مبتلا ہو جائے۔یہ کہہ کر آپ باہر آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ منبر کی طرف بڑھے۔جب آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو حضرت عمرؓ بھی تلوار کھینچ کر آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اس نیت سے کہ اگر ابوبکر نے یہ کہا که محمد رسول اللہ علیہ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُن کو قتل کر دوں گا۔جب آپ بولنے لگے تو حضرت عمر نے آپ کا کپڑا کھینچا اور آپ کو خاموش کرنا چاہا مگر آپ نے کپڑے کو جھٹک کر اُن کے ہاتھ سے چھڑالیا اور پھر قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ جَ قَدُ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ - ل یعنی اے لوگو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اُن سے پہلے اور بہت سے رسول گزرے ہیں اور سب کے سب فوت ہو چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر پھر جاؤ گے؟ دین خدا کا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نہیں۔یہ آیت اُحد کے وقت نازل ہوئی تھی جب کہ بعض لوگ یہ سن کر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں دل چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔اس آیت کے پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا اے لوگو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ الله حتى لا يموت جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔و مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدَمَات اور جو کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اُس کو میں بتائے دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ابوبکر نے مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول والی آیت پڑھنی شروع کی تو میرے ہوش درست ہونے شروع ہوئے۔اس آیت کے ختم کرنے تک آل عمران: ۱۴۵