نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 237

۲۳۷ نبیوں کا سردار جوتیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لئے پہنچ جائیں گے لے چونکہ لشکر کو شام کی طرف جانا تھا اور موتہ کی جنگ کا نظارہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اس لئے ہر مسلمان کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کا خیال سب خیالوں پر مقدم تھا۔عورتیں تک بھی اس خطرہ کو محسوس کر رہی تھیں اور اپے خاوندوں اور اپنے بیٹوں کو جنگ پر جانے کی تلقین کر رہی تھیں۔اس اخلاص اور اس جوش کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی جو کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اُس وقت واپس لوٹے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت مدینہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اس خیال سے اپنے گھر میں داخل ہوئے کہ اپنی محبو بہ بیوی کو جا کر دیکھیں گے اور خوش ہوں گے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور محبت سے بغل گیر ہوئے اور پیار کرنے کے لئے تیزی سے اس کی طرف آگے بڑھے۔جب وہ بیوی کے قریب گئے تو اُن کی بیوی نے دونوں ہاتھوں سے اُن کو دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا۔اُس صحابی نے حیرت سے اپنی بیوی کا منہ دیکھا اور پوچھا اتنی مدت کے بعد ملنے پر آخر یہ سلوک کیوں ؟ بیوی نے کہا کیا تم کو شرم نہیں آتی خدا کا رسول اُس خطرہ کی جگہ پر جارہا ہے اور تم اپنی بیوی سے پیار کرنے کی جرات کرتے ہو! پہلے جاؤ اور اپنا فرض ادا کرواس کے بعد یہ باتیں دیکھی جائیں گی وہ صحابی فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔اپنی سواری پر زین کسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین منزل پر جا کر مل گئے۔کفار تو یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان افواہوں کی بناء پر بے سوچے سمجھے شامی لشکروں پر جا پڑیں گے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی اخلاق تفسیر فتح البیان جز خامس صفحه ۷۱ ۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۲ء