نبیوں کا سردار ﷺ — Page 221
۲۲۱ نبیوں کا سردار میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں۔میں نے خدا کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا تھا اور اس کے بعد اب میں اپنے وطن میں واپس نہیں آسکتا۔میری زندگی تمہاری زندگی سے ہے اور میری موت تمہاری موت سے وابستہ ہے۔مدینہ کے لوگ آپ کی یہ باتیں سن کر اور آپ کی محبت اور آپ کی وفا کو دیکھ کر روتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا یا رَسُولَ الله ! خدا کی قسم! ہم نے خدا اور اس کے رسول پر بدظنی کی یہ بات یہ ہے کہ ہمارے دل اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتے کہ خدا کا رسول ہمیں اور ہمارے شہر کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو بری سمجھتے ہیں اور تمہارے اخلاص کی تصدیق کرتے ہیں۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے لوگوں میں یہ پیار اور محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی اگر مکہ کے لوگوں کی آنکھوں نے آنسو ہیں بہائے ہوں گے تو ان کے دل یقینا آنسو بہارہے ہوں گے کہ وہ قیمتی ہیرا جس سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز اس دنیا میں پیدا نہیں ہوئی خدا نے اُن کو دیا تھا مگر اُنہوں نے اُس کو اپنے گھروں سے نکال کر پھینک دیا اور اب کے وہ خدا کے فضل اور اُس کی مدد کے ساتھ دوبارہ مکہ میں آیا تھا وہ اپنے وفائے عہد کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے ملکہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس جا رہا ہے۔جن لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے ان کو قتل کیا جائے ان میں سے اکثر کو مسلمانوں کی سفارش پر آپ نے چھوڑ دیا۔انہی لوگوں میں سے ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔عکرمہ کی بیوی دل سے مسلمان تھی اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! عکرمہ کو بھی آپ معاف فرما دیں۔آپ نے فرمایا ہاں ہاں ! ہم اُسے معاف کرتے ہیں۔عکرمہ بھاگ کریمن کی طرف جا رہے تھے کہ بیوی اپنے خاوند کی محبت میں پیچھے پیچھے اُس کی تلاش سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۵۹ مطبوعه مصر ۱۹۳۶ء