نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 213

۲۱۳ نبیوں کا سردار زور سے حلال کر دیا ہے۔آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا یا رَسُول اللہ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے؟ ابھی ابھی انصار کے سردار سعد اور ان کے ساتھی ایسا ایسا کہہ رہے تھے۔انہوں نے بلند آواز یہ کہا ہے آج لڑائی ہوگی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے یا رَسُول الله ! آپ تو دنیا میں سب سے زیادہ نیک ، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔کیا آج اپنی قوم کے ظلموں کو بھول نہ جائیں گے؟ ابوسفیان کی یہ شکایت و التجا سن کر وہ مہاجرین بھی جن کو مکہ کی گلیوں میں پیٹا اور مارا جاتا تھا، جن کو گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کیا جاتا تھا تڑپ گئے اور ان کے دلوں میں بھی مکہ کے لوگوں کی نسبت رحم پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے کہا یا رَسُول اللہ! انصار نے مکہ والوں کے مظالم کے جو واقعات سنے ہوئے ہیں آج ان کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ وہ قریش کے ساتھ کیا معاملہ کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوسفیان ! سعد نے غلط کہا ہے آج رحم کا دن ہے۔آج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ کو عزت بخشنے والا ہے۔پھر آپ نے ایک آدمی کو سعد کی طرف بھجوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قیس کو دے کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈر ہو گا لے اس طرح آپ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ رکھا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیس پر پورا اعتبار بھی تھا کیونکہ قیس نہایت ہی شریف طبیعت کے نوجوان تھے۔ایسے شریف کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان کی وفات کے قریب جب بعض لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے اور بعض نہ آئے تو انہوں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بعض جو ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۵ مطبوعه مصر ۱۹۳۵ء