نبیوں کا سردار ﷺ — Page 208
۲۰۸ نبیوں کا سردار ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ابھی سات ہی سال گزرے ہیں کہ وہ دس ہزار قدوسیوں سمیت مکہ پر بلا ظلم اور بلا تعدی کے جائز طور پر حملہ آور ہوا ہے اور مکہ والوں میں طاقت نہیں کہ اس کو روک سکیں۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس تک پہنچتے پہنچتے کچھ ان خیالات کی وجہ سے اور کچھ دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباس سے فرمایا کہ ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات اپنے پاس رکھو صبح اسے میرے پاس لانا لے چنانچہ رات ابوسفیان حضرت عباس کے ساتھ رہا۔جب صبح اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو فجر کی نماز کا وقت تھا۔مکہ کے لوگ صبح اٹھ کر نماز پڑھنے کو کیا جانتے تھے اُس نے ادھر ادھر مسلمانوں کو پانی کے بھرے ہوئے لوٹے لے کر آتے جاتے دیکھا اور اسے نظر آیا کہ کوئی وضو کر رہا ہے کوئی صف بندی کر رہا ہے تو ابوسفیان نے سمجھا کہ شاید میرے لئے کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہوا ہے۔چنانچہ اُس نے گھبرا کر حضرت عباس سے پوچھا کہ یہ لوگ صبح صبح یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت عباس نے کہا تمہارے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے دیکھا کہ ہزاروں ہزار مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ہیں اور جب آپ رکوع کرتے ہیں تو سب کے سب رکوع کرتے ہیں اور جب آپ سجدہ کرتے ہیں تو سب کے سب سجدہ کرتے ہیں۔حضرت عباس " چونکہ پہرہ پر ہونے کی وجہ سے نماز میں شامل نہیں ہوئے تھے ابوسفیان نے اُن سے پوچھا اب یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں دیکھتا ہوں کہ جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں وہی یہ لوگ کرنے لگ جاتے ہیں۔عباس نے کہا تم کن خیالات میں پڑے ہو یہ تو نماز ادا ہو رہی ہے، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ل سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۲۵،۴۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء