نبیوں کا سردار ﷺ — Page 200
۲۰۰ نبیوں کا سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں غسان قبیلہ کے رئیس کو جو رومی حکومت کی طرف سے بصرہ کا حاکم تھا یا خود قیصر روما کو ایک خط لکھا۔غالباً اس خط میں مذکورہ بالا واقعہ کی شکایت ہوگی کہ بعض شامی قبائل اسلامی علاقہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بلاوجہ پندرہ مسلمانوں کو قتل کر دیا ہے۔یہ خط الحرث نامی ایک صحابی کے ہاتھ بجھوایا گیا تھا۔وہ شام کی طرف جاتے ہوئے موتہ نامی ایک مقام پر ٹھہرے جہاں غسان قبیلہ کا ایک رئیس سرجیل نامی جو قیصر کے مقرر کردہ حکام میں سے تھا اُنہیں ملا اور اُس نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ شاید تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبر ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر اُس نے ان کو گرفتار کر لیا اور رسیوں سے باندھ کر مار مار کر انہیں مار دیا۔گو تاریخ میں اس کی تشریح نہیں آئی لیکن یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس لشکر نے پہلے پندرہ صحابیوں کو مارا تھا یہ شخص اس کے لیڈروں میں سے ہوگا۔چنانچہ اس کا یہ سوال کرنا کہ شاید تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبروں میں سے ہو بتا تا ہے کہ اُس کو خوف تھا کہ محمد رسول اللہ قیصر کے پاس شکایت کریں گے کہ تمہارے علاقہ کے لوگ ہمارے علاقہ کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتا ہوگا کہ شاید بادشاہ اس کی وجہ سے ہم سے باز پرس نہ کرے۔پس اُس نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ پیغامبر کو مار دے تا کہ نہ پیغام پہنچے اور نہ کوئی تحقیقات ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے ان بدار ا دوں کو پورا نہ ہونے دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحرث کے مارے جانے کی خبر کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئی اور آپ نے اس پہلے واقعہ اور اس واقعہ کی سزا دینے کے لئے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے زید بن حارثہ ( جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور جن کا آپ کی مکی زندگی میں ذکر آچکا ہے) کی ماتحتی میں شام کی طرف بھجوایا اور حکم دیا کہ زید بن حارثہ فوج کے کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو عبداللہ بن