نبیوں کا سردار ﷺ — Page 181
کا گناہ تیرے ہی سر پر ہوگا۔۱۸۱ نبیوں کا سردار عبداللہ بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں کسری کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسری کے ہاتھ میں دیا تو اُس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر سنایا تو کسری نے غصہ سے خط پھاڑ دیا۔جب عبد اللہ بن حذافہ نے یہ خبر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تو آپ نے فرمایا۔کسری نے جو کچھ ہمارے خط کے ساتھ کیا خدا تعالیٰ اس کی بادشاہت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔کسری کی اس حرکت کا باعث یہ تھا کہ عرب کے یہودیوں نے اُن یہودیوں کے ذریعہ سے جو روم کی حکومت سے بھاگ کر ایران کی حکومت میں چلے گئے تھے اور بوجہ رومی حکومت کے خلاف سازشوں میں کسری کا ساتھ دینے کے کسریٰ کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے کسری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت بھڑکا رکھا تھا۔جو شکایتیں وہ کر رہے تھے اس خط نے کسری کے خیال میں اُن کی تصدیق کر دی اور اس نے خیال کیا کہ یہ شخص میری حکومت پر نظر رکھتا ہے۔چنانچہ اس خط کے معا بعد کسری نے اپنے یمن کے گورنر کو ایک چٹھی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے ایک شخص نبوت کا دعوی کر رہا ہے اور اپنے دعوؤں میں بہت بڑھتا چلا جاتا ہے تو فوراً اس کی طرف دو آدمی بھیج جو اُس کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کریں۔اس پر باذان نے جو اُس وقت کسری کی طرف سے یمن کا گورنر تھا ایک فوجی افسر اور ایک سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوائے اور ایک خط بھی آپ کی طرف لکھا کہ آپ اس خط کے ملتے ہی فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسری کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔وہ افسر پہلے مکہ کی طرف گیا۔طائف کے قریب پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ میں رہتے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں سے مدینہ گیا۔مدینہ پہنچ کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ