نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 165

ܬܪܙ نبیوں کا سردار اس رویا میں درحقیقت صلح اور امن کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے کی خبر دی گئی تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ شاید ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ اس غلط نہی سے اس قسم کی بنیاد پڑنے والی تھی اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ نہ کیا۔چنانچہ آپ نے اپنے صحابہ میں اس بات کا اعلان کیا اور انہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کی۔مگر فر ما یا ہم صرف طواف کی نیت سے جارہے ہیں کسی قسم کا مظاہرہ یا کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دشمن کی ناراضگی کا موجب ہو۔چنانچہ آخر فروری ۶۲۸ء میں پندرہ سوزائرین کے ساتھ آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے ( ایک سال بعد کل پندرہ سو آدمیوں کا آپ کے ساتھ جانا بتاتا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے جنگ احزاب کے موقع پر اس تعداد سے کم ہی سپاہی ہوں گے۔کیونکہ ایک سال میں مسلمان بڑھے تھے گھٹے نہ تھے۔پس جنگ احزاب میں لڑنے والوں کی تعداد جن مؤرخوں نے تین ہزار لکھی ہے یہ غلطی کی ہے۔درست یہی ہے کہ اُس وقت بارہ سو سپاہی تھے ) حج کے قافلہ کے آگے ہیں سوار کچھ فاصلہ پر اس لئے چلتے تھے تا کہ اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کو وقت پر اطلاع مل جائے۔جب مکہ والوں کو آپ کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو باوجود اس کے کہ اُن کا اپنا مذہب بھی یہی تھا که طواف کعبہ میں کسی کے لئے روک نہیں ڈالنی چاہئے اور باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے وضاحت سے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف طواف کعبہ کے لئے جارہے ہیں کسی قسم کی مخالفت یا جھگڑے کے لئے نہیں جار ہے مکہ والوں نے ملکہ کو ایک قلعہ کی صورت میں تبدیل کر دیا اور اردگرد کے قبائل کو بھی اپنی مدد کے لئے بلوایا۔جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش نے چیتوں کی کھالیں پہن لی ہیں اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے لیا ہے اور یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ آپ کو گزرنے نہیں دیں گے۔یہ عرب