نبیوں کا سردار ﷺ — Page 164
۱۶۴ نبیوں کا سردار سے نہیں تھا کیونکہ بنوفزارہ ڈاکوؤں کا ایک قبیلہ تھا جو ہر قوم کے آدمیوں کولوٹتے اور قتل کرتے رہتے تھے۔اُس زمانہ میں خیبر کے یہودی بھی جو جنگ احزاب کا موجب ہوئے تھے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ادھر ادھر کے قبائل کو بھڑکاتے رہے اور رومی حکومت کے سرحدی علاقوں کے افسروں اور قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے رہے۔غرض کفار عرب کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تو ہمت نہ رہی تھی تاہم وہ یہود کے ساتھ مل کر سارے عرب میں مسلمانوں کے لئے مصیبتوں اور لوٹ مار کے سامان پیدا کر رہے تھے مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک کفار کے ساتھ آخری لڑائی لڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور آپ اس انتظار میں تھے کہ اگر صلح کے ساتھ یہ خانہ جنگی ختم ہوجائے تو اچھا ہے۔پندرہ سو صحابہؓ کے ساتھ آنحضرت عملے کی ملکہ کو روانگی اس عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رو یاد دیکھی جس کا قرآن کریم میں ان الفاظ میں ذکر آتا ہے۔لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَي لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا ہے یعنی ضرور تم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے۔تم میں سے بعضوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے اور بعضوں کے بال کٹے ہوئے ہوں گے (حج کے وقت سر منڈانا اور بال کٹانا ضروری ہوتا ہے ) تم کسی سے نہ ڈر رہے ہو گے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔اس وجہ سے اُس نے اس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ایک اور فتح مقرر کر دی ہے جو خواب والی فتح کا پیش خیمہ ہوگی۔الفتح: ٢٨