نبیوں کا سردار ﷺ — Page 156
ܪܙ نبیوں کا سردار کے معاملہ میں دخل نہ دیا جائے۔(۴) فرماتا ہے وَإِنْ جَنَحُوا لِلسّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ۔وَإِن يُرِيدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ہے یعنی اگر کسی وقت بھی کفار صلح کی طرف جھکیں تو تو فوراً ان کی بات ان لیجیو اور صلح کر لیجیو اور یہ وہم مت کیجیو کہ شاید وہ دھوکا کر رہے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیو۔خدا تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔اور اگر تیرا یہ خیال صحیح ہو کہ وہ دھوکا کرنا چاہتے ہیں اور وہ واقعہ میں تجھے دھوکا دینے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں تو بھی یادرکھ کہ ان کے دھوکا دینے سے بنتا کیا ہے۔تجھے تو صرف اللہ کی مدد سے ہی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔اُس کی مدد تیرے لئے کافی ہے۔گزشتہ زمانہ میں وہی اپنی براہ راست مدد کے ذریعہ اور مؤمنوں کی مدد کے ذریعہ تیرا ساتھ دیتا رہا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب دشمن صلح کرنے پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کو بہر حال اس سے صلح کر لینی چاہئے۔اگر صلح کے اُصول کو وہ ظاہر میں تسلیم کرتا ہو تو صرف اس بہانہ سے صلح کو رد نہیں کرنا چاہئے کہ شاید دشمن کی نیت بد ہو اور بعد میں طاقت پکڑ کے دوبارہ حملہ کرنا چاہتا ہو۔ان آیتوں میں در حقیقت صلح حدیبیہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دشمن صلح کرنا چاہے گا اُس وقت تم اس عذر سے کہ دشمن نے زیادتی کی ہے یا یہ کہ وہ بعد میں اس معاہدہ کو توڑ دینا چاہتا ہے صلح سے انکار نہ کرنا کیونکہ نیکی کا تقاضا بھی یہی ہے اور تمہارا فائدہ بھی اس میں ہے کہ تم صلح کی پیشکش کو تسلیم کر لو۔(۵) فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا الانفال: ۶۲، ۶۳