نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 154

جنگ نہیں کرنی چاہئے۔۱۵۴ نبیوں کا سردار ہفتم: اگر دشمن خود مذہبی عبادت گاہوں کولڑائی کا ذریعہ بنائے تو پھر مجبوری ہے ورنہ تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے۔اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے اردگرد بھی لڑائی نہیں ہونی چاہئے کجا یہ کہ عبادت گاہوں پر حملہ کیا جائے یا وہ مسمار کی جائیں یا تو ڑی جائیں۔ہاں اگر دشمن خود عبادت گاہوں کو لڑائی کا قلعہ بنالے تو پھر اُن کے نقصان کی ذمہ داری اُس پر ہے اس نقصان کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں۔ہشتم: اگر دشمن مذہبی مقاموں میں لڑائی شروع کرنے کے بعد اُس کے خطرناک نتائج کو سمجھ جائے اور مذہبی مقام سے نکل کر دوسری جگہ کو میدانِ جنگ بنالے تو مسلمانوں کو اس بہانہ سے اُن کے مذہبی مقاموں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے کہ اس جگہ پر پہلے اُن کے دشمنوں نے لڑائی شروع کی تھی بلکہ فوراً اُن مقامات کے ادب اور احترام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حملہ کا رُخ بھی بدل دینا چاہئے۔تم لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ مذہبی دست اندازی ختم ہو جائے اور دین کے معاملہ کو صرف ضمیر کا معاملہ قرار دیا جائے۔سیاسی معاملوں کی طرح اس میں دخل اندازی نہ کی جائے۔اگر دشمن اس بات کا اعلان کر دے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو خواہ وہ حملہ میں ابتدا کر چکا ہو اُس کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔(۳) فرماتا ہے قُل لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوْا يُغْفَرُ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا فَقَد مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ۔وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔وَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ