نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 138

۱۳۸ نبیوں کا سردار إقَالَةَ عَتَرَاتِ الكرام لے یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اُسے معاف کر دیں اس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشا ر ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سر زنش نہیں کی کہ کیوں اُس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اُس کے فعل کو سراہا۔بنو قریظہ کے اپنے مقرر کردہ حکم سعد کا فیصلہ تورات کے مطابق تھا یہ اوپر کے واقعات انفرادی تھے۔بنو قریظہ بحیثیت قوم اپنی ضد پر قائم رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے سعد کے فیصلہ پر اصرار کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کے اِس مطالبہ کو مان لیا۔سعد کو جو جنگ میں زخمی ہو چکے تھے اطلاع دی کہ تمہارا فیصلہ بنو قریظہ تسلیم کرتے ہیں آکر فیصلہ کرو۔اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی اوس قبیلہ کے لوگ جو بنو قریظہ کے دیر سے حلیف چلے آئے تھے وہ سعد کے پاس دوڑ کر گئے اور اُنہوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ خزرج نے اپنے حلیف یہودیوں کو ہمیشہ سزا سے بچایا ہے آج تم بھی اپنے حلیف قبیلہ کے حق میں فیصلہ دینا۔سعد زخموں کی وجہ سے سواری پر سوار ہو کر بنوقریظہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کی السيرة الحلبية جلد ٢ صفحه ۳۶۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء