نبیوں کا سردار ﷺ — Page 125
۱۲۵ نبیوں کا سردار میں تھے کہ کوئی موقع مل جائے تو بغیر مسلمانوں کے شبہات کو اُبھارنے کے وہ مدینہ کے اندر گھس کر عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں۔چنانچہ ایک دن بنوقریظہ نے ایک جاسوس بھیجا تا کہ وہ معلوم کرے کہ عورتیں اور بچے اکیلے ہی ہیں یا کافی تعداد سپاہیوں کی اُن کی حفاظت کے لئے مقرر ہے۔جس خاص احاطہ میں وہ خاص خاص خاندان جن کو دشمن سے زیادہ خطرہ تھا جمع کر دیئے گئے تھے اُس کے پاس اُس جاسوس نے آکر منڈلانہ اور چاروں طرف دیکھنا شروع کیا کہ مسلمان سپاہی کہیں اردگرد میں پوشیدہ تو نہیں ہیں۔وہ ابھی اسی ٹوہ میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے اُسے دیکھ لیا۔اتفاقاً اُس وقت صرف ایک ہی مسلمان مرد وہاں موجود تھا اور وہ بھی بیمار تھا۔حضرت صفیہ نے اُسے کہا کہ یہ آدمی دیر سے عورتوں کے علاقہ میں پھر رہا ہے اور جانے کا نام نہیں لیتا اور چاورں طرف دیکھتا پھرتا ہے پس یہ یقینا جاسوس ہے تم اس کا مقابلہ کر وایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کر کے ادھر حملہ کر دے۔اُس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔تب حضرت صفیہ نے خود ایک بڑا بانس لے کر اُس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اُس کو مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنوقریظہ کا جاسوس تھا۔تب تو مسلمان اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور سمجھے کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے بارہ سوسپاہیوں میں سے پانچ سو کو عورتوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ بیس ہزار لشکر کے مقابلہ کے لئے صرف سات سو سپاہی رہ گئے۔اس حالت میں بعض مسلمان گھبرا کر رسول ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۴۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء