نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 120

۱۲۰ نبیوں کا سردار دیکھ کر ہم کہ سکتے ہیں کہ اس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی۔یہ میرا خیال ہی نہیں تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ لکھا ہے جب خندق کھودنے کا وقت آیا سب لڑکے بھی جمع کر لئے گئے اور تمام مرد خواہ بڑے تھے خواہ بچے، خندق کھودنے یا اُس میں مدد دینے کا کام کرتے تھے ، پھر جب دشمن آ گیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام لڑکوں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے، انہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہر میں خواہ چلے جائیں لے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھود نے کے وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور جنگ کے وقت کم ہوگئی کیونکہ نابالغوں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔پس جن روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھود نے کے وقت کی تعداد بتاتی ہیں جس میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔اور جیسا کہ میں نے دوسری جنگوں پر قیاس کر کے نتیجہ نکالا ہے کچھ عورتیں بھی تھیں۔لیکن بارہ سو کی تعداد اُس وقت کی ہے جب جنگ شروع ہوگئی اور صرف بالغ مردرہ گئے۔اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ابن احق مؤرخ نے بیان کی ہے جو بہت معتبر مؤرخ ہے اور ابن حزم جیسے زبردست عالم نے اس کی بڑے زور سے تصدیق کی ہے۔پس اس کے بارہ میں بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔اور اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ تاریخ کی مزید چھان بین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنوقریظہ کفار کے لشکر سے مل گئے اور اُنہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور اُن کی نیتوں کا راز فاش ل السيرة الحلبية جلد ٢ صفحه ۳۳۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء