نبیوں کا سردار ﷺ — Page 30
نبیوں کا سردار میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے۔پس تم قربانی کرو، خدا کے قریب ہو۔خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو۔آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا ترازو رکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں وہ مٹا دیئے جائیں گے اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی۔کفار مکہ کی ابوطالب کے پاس شکایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال جب تیتعلیمیں بار بار مکہ والوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چا ابوطالب کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کچھ نہیں کہا۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں یا تو آپ اُسے سمجھا ئیں اور اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔اگر اُس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اُس کو دینے کے لئے تیار ہے۔اگر اُسے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہر لڑکی جو اُسے پسند ہو اس کا نام لے ہم اُس سے اُس کا بیاہ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ہم اس کے بدلہ میں اُس سے کچھ نہیں چاہتے اور