نبیوں کا سردار ﷺ — Page 226
۲۲۶ نبیوں کا سردار ہیں ہم کو بھی لڑائی میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے چنانچہ دو ہزار آدمی مکہ سے آپ کے ساتھ روانہ ہوا۔راستہ میں عرب کی ایک مشہور زیارت گاہ پڑتی تھی جس کو ذات انواط کہتے تھے۔یہ ایک پرانا بیری کا درخت تھا جس کو عرب کے لوگ متبرک سمجھتے تھے اور جب عرب کے بہادر لوگ کوئی ہتھیار خریدتے تو پہلے ذاتِ انواط میں جا کر لڑکاتے تھے تا کہ اس کو برکت حاصل ہو جائے۔جب صحابہ اس کے پاس سے گزرے تو بعض نے کہا یا رَسُول اللہ ! ہمارے لئے بھی آپ ایک ذات انواط مقرر فرما ئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ بڑا ہے یہ تو وہی موسی کی قوم والی بات ہوئی کہ جب وہ کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان کے قبائل کو اُنہوں نے بت پوجتے دیکھا تو موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا يموسَى اجْعَل لَّنَا إِلَها كَمَا لَهُمْ الهَةٌ اے موسیٰ ! جس طرح ان کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی کوئی معبود تجویز کر دیجئے۔فرمایا یہ تو جہالت کی باتیں ہیں میں ڈرتا ہوں کہ اس قسم کے وہموں کی وجہسے کہیں تم میں سے بھی ایک گروہ اسی ہی رکتی نہ کرنے لگ جائے سے ہوازن اور ان کے مددگار قبائل نے ایک کمین گاہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بنا چھوڑی تھی جیسے آجکل لڑائی کے میدان میں مخفی خندقیں ہوتی ہیں جب اسلامی لشکر حنین مقام پر پہنچا تو وہ ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی منڈیریں بنا کر ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور بیچ میں سے ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا۔اکثر سپاہی تو ان ٹیلوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی اونٹوں وغیرہ کے سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے۔مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔الاعراف: ۱۳۹ سیرت این هشام جلد ۴ صفحه ۸۵،۸۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء