نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 225

۲۲۵ نبیوں کا سردار سرداروں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا اس لئے تا سپاہیوں کو یہ خیال رہے کہ اگر ہم بھاگے تو ہماری بیویاں اور ہماری اولادیں قید ہو جائیں گی اور ہمارے مال لوٹے جائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پختہ ارادہ کے ساتھ مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے نکلے تھے۔آخر یہ شکر وادی اوطاس میں آکر اُتر ا جو جنگ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی وادی تھی کیونکہ اس میں پناہ کی جگہیں بھی تھیں اور جانوروں کے لئے چارہ اور انسانوں کے لئے پانی بھی موجود تھا اور گھوڑے دوڑانے کیلئے زمین بھی بہت ہی مناسب تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے عبداللہ بن ابی حدود نامی ایک صحابی کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔عبداللہ نے آکر اطلاع دی کہ واقعہ میں ان کا لشکر جمع ہے اور وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔چونکہ یہ قوم بڑی تیرانداز تھی اور جس جگہ پر انہوں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ مقام ایسا تھا کہ صرف ایک محدود جگہ پر لڑائی کی جاسکتی تھی اور اس جگہ پر بھی حملہ آور بڑی صفائی کے ساتھ تیروں کا نشانہ بنتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردار صفوان سے جو بہت بڑے مالدار اور تاجر تھے اس جنگ کے لئے ہتھیار اور کچھ روپیہ مانگا۔صفوان نے کہا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا اپنی حکومت کے زور پر آپ میرا مال چھیننا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ہم چھینا نہیں چاہتے بلکہ تم سے عاریہ مانگتے ہیں اور اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔اس پر اُس نے کہا تب کوئی حرج نہیں آپ مجھ سے یہ چیزیں لے لیں اور اُس نے سوزِ رہیں اور ان کے ساتھ مناسب ہتھیار عاریتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور اس کے علاوہ تین ہزار روپیہ قرض دیا۔اسی طرح آپ نے اپنے چچا زاد بھائی نوفل بن حارث سے تین ہزار نیزہ عاریہ لیا۔جب یہ شکر ہوازن کی طرف چلا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ گوہم مسلمان نہیں ہیں لیکن اب چونکہ ہم اسلامی حکومت میں شامل ہو چکے