نبیوں کا سردار ﷺ — Page 222
۲۲۲ نبیوں کا سردار میں گئی۔جب وہ ساحلِ سمندر پر کشتی میں بیٹھے ہوئے عرب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے پر تیار تھے کہ پراگندہ سر اور پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی پہنچی اور کہا اے میرے چچا کے بیٹے ! ( عرب عورتیں اپنے خاندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں ) اتنے شریف اور اتنے رحمدل انسان کو چھوڑ کر کہاں جارہے ہو؟ عکرمہ نے حیرت سے اپنی بیوی سے پوچھا کیا میری ان ساری دشمنیوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معاف کر دیں گے؟ عکرمہ کی بیوی نے کہا ہاں ہاں! میں نے اُن سے عہد لے لیا ہے اور انہوں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا یا رَسُول اللہ! میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے میرے جیسے انسان کو بھی معاف کر دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے ہم نے تم کو معاف کر دیا ہے۔عکرمہ نے کہا جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو معاف کر سکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہو اور پھر شرم سے اپنا سر جھکا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حیا کی حالت کو دیکھ کر اس کے دل کی تسلی کے لئے فرمایا۔عکرمہ اہم نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے زائد یہ بات بھی ہے کہ اگر آج کوئی ایسی چیز مجھ سے مانگو جس کے دینے کی مجھ میں طاقت ہو تو میں وہ بھی تمہیں دے دوں گا۔عکرمہ نے کہا یا رسُول اللہ ! اور اس سے زیادہ میری خواہش کیا ہو سکتی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے جو آپ کی دشمنیاں کی ہیں وہ مجھے معاف کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا۔اے میرے اللہ ! وہ تمام دشمنیاں جو عکرمہ نے مجھ سے کی ہیں اسے معاف کر دے اور وہ تمام گالیاں جو اس کے منہ سے نکلی ہیں وہ اسے بخش دے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اپنی چادر اتار کر اس کے اوپر ڈال دی اور فرمایا جو اللہ پر ایمان