نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 155

نبیوں کا سردار مَوْلَاكُمْ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - یعنی اے محمد رسول اللہ ! دشمن نے جنگیں شروع کیں اور تمہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے اُن کا جواب دینا پڑا۔مگر تو اُن میں اعلان کر دے کہ اگر اب بھی وہ لڑائی سے باز آجائیں تو جو کچھ وہ پہلے کر چکے ہیں انہیں معاف کر دیا جائے۔لیکن اگر وہ لڑائی سے باز نہ آئیں اور بار بار حملے کریں تو پہلے انبیاء کے دشمنوں کے انجام اُن کے سامنے ہیں انجام ان کا بھی وہی ہوگا۔اور اے مسلمانو! تم اُس وقت جنگ کو جاری رکھو کہ مذہب کی خاطر دُکھ دینا مٹ جائے اور دین کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیا جائے اور دین کے معاملہ میں دخل اندازی کرنا لوگ چھوڑ دیں۔پھر اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز آجائیں تو محض اس وجہ سے اُن سے جنگ نہ کرو کہ وہ ایک غلط دین کے پیرو ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل کو جانتا ہے وہ خود جیسا چاہے گا ان سے معاملہ کرے گا تمہیں اُن کے غلط دین کی وجہ سے ان کے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔اگر ہمارے اس صلح کے اعلان کے بعد بھی جو لوگ جنگ سے باز نہ آئیں اور لڑائی جاری رکھیں تو خوب سمجھ لو کہ باوجود اس کے کہ تم تھوڑے ہو تم ہی جیتو گے کیونکہ اللہ تمہارا ساتھی ہے اور خدا تعالیٰ سے بہتر ساتھی اور بہتر مددگار اور کون ہوسکتا ہے۔یہ آیات قرآن مجید میں جنگ بدر کے ذکر کے بعد آئی ہیں جو کفارِ عرب اور مسلمانوں کے درمیان سب سے پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔باوجود اس کے کہ کفار عرب نے بلاوجہ مسلمانوں پر حملہ کیا اور مدینہ کے ارد گرد فساد مچایا اور باوجود اس کے کہ مسلمان کامیاب ہوئے اور دشمن کے بڑے بڑے سردار مارے گئے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہی اعلان کروایا ہے کہ اگر اب بھی تم لوگ باز آجاؤ تو ہم لڑائی کو جاری نہیں رکھیں گے۔ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جبر امذ ہب نہ بدلوائے جائیں اور دین الانفال: ۳۹ تا ۴۱