نبیوں کا سردار ﷺ — Page 127
۱۲۷ نبیوں کا سردار ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے اُنہوں نے بہانے بہانے سے لشکر سے فرار کی صورت سوچی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيِّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا لے یعنی ایک گروہ اُن میں سے رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ انہیں محاذ جنگ سے پیچھے لوٹ آنے کی اجازت دی جائے۔کیونکہ اُنہوں نے کہا (اب یہودی بھی مخالف ہو گئے ہیں اور اُس طرف سے مدینہ کے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں ) اور ہمارے گھر اُس علاقہ کی طرف سے بے حفاظت کھڑے ہیں ( پس ہمیں اجازت دیجئے کہ جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں) لیکن اُن کا یہ کہنا کہ اُن کے گھر بے حفاظت کھڑے ہیں بالکل غلط ہے۔وہ بے حفاظت نہیں ہیں ( کیونکہ خدا تعالیٰ مدینہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے ) وہ تو صرف ڈر کے مارے میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔اُس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اُس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے۔إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا۔یعنی یاد تو کر وجب تم پر لشکر چڑھ کے آ گیا تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی۔یعنی نیچے کی طرف سے کفار اور اوپر کی طرف سے یہود۔جب کہ نظریں سج ہونے لگ گئیں اور دل اُچھل اچھل کر گلے تک آنے لگے اور تم میں سے کئی خدا کی نسبت بدظنیاں کرنے لگ گئے۔اُس وقت مؤمنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا اور مؤمنوں کو سر سے پیر تک ہلا دیا گیا الاحزاب: ۱۴ الاحزاب: ۱۱ تا ۱۴