نبیوں کا سردار ﷺ — Page 126
نبیوں کا سردار اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسُول اللہ! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں۔اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ، آپ اس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھلائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔آپ نے فرمایا تم لوگ گھبراؤ نہیں تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ تمہاری کمزوریوں پر وہ پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور گھبراہٹ کو دور فرمائے۔اور پھر آپ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی۔اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَبِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ اور اسی طرح یہ دعا فرمائی۔يَا صَرِيخَ الْمَكْرُ وبِيْنَ يَأْمُجِيبَ الْمُضْطَرِيْنَ اكْشِفُ هَيْيَ وَغَمَّى وَكَرْبِي فَإِنَّكَ تَرَى مَانَزَلَ بِي وَ بِأَصْحَابِ اے اللہ ! جس نے قرآن کریم مجھ پر نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہو کر آئے ہیں ان کو شکست دے۔اے اللہ ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تو انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ دے اور اُن کے ارادوں کو متزلزل کر دے۔اے دردمندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے! میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دُور کر کیونکہ تو ان مصائب کو جانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو در پیش ہیں۔منافقوں اور مؤمنوں کی حالت کا بیان اس موقع پر منافق تو اتنے گھبرا گئے کہ قومی حمیت اور اپنے شہر اور اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا خیال بھی اُن کے دلوں سے نکل گیا۔مگر چونکہ اپنی قوم کے سامنے وہ ل کے بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خندق