مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 82

مواهب الرحمن ۸۲ اردو تر جمه فإن الفساد كما دخل قلوب کیونکہ فساد جس طرح اس ملت کے دشمنوں کے أعداء هذه الملة، كذالك دخل دلوں میں داخل ہے اسی طرح بلا تفریق مسلمانوں کے دلوں میں بھی داخل ہو چکا ہے۔سو یہ شریر لوگ قلوب المسلمين من غير التفرقة۔فـلـن يـغـلـب الأشرار دوسرے شریر لوگوں پر جہاد کے ذریعے ہرگز غلبہ نہ پائیں گے۔ہاں مگر عفت اور تقویٰ کے أشرارًا آخرين بغزاة، بل بعفة ساتھ۔اللہ مسلمان بادشاہوں کی دین میں کمزوری وتقاة، فلن ينصر الله الله ملوك اور سُستی کی حالت میں ہرگز مدد نہیں فرمائے گا الإسلام مع وهنهم وغفلتهم في بلکہ ان سے سخت ناراض ہو گا اور کافروں کو الـديـن، بل يغضب غضبا شديدا مسلمانوں پر ترجیح دے گا۔یوں اس لئے ہوگا کہ ويؤثر الكافرين على المسلمين۔انہوں نے حدود اللہ کو بھلا دیا اور وہ اپنے رب کے ذالك بأنهم نسوا حدود الله حکم کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ تقوی شعار ولا يبالون أمر ربھم وليسوا من ہیں۔وہ قرآن کے ایک حصے کو مانتے ہیں اور المتقين۔يؤمنون ببعض القرآن دوسرے کا انکار کرتے ہیں۔اور حق کی اشاعت ويكفرون ببعض ، ولا يشيعون نہیں کرتے بلکہ منافقوں جیسی زندگی گزارتے الحق بل يعيشون كالمنافقین ہیں۔یہ حال ہے اہل زمانہ کا۔مزید برآں رحمن خدا هذا بالُ أهل الزمان، ثم ينكرون كى طرف سے مبعوث کئے گئے بندے کا وہ کی انکار کرتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔کیا وہ ويكذبون بعبد بعث من الرحمن۔أعجبوا أن جاء هم منذر منهم في تعجب کرتے ہیں کہ اُن کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا ایسے وقت میں آیا ہے جب لوگ وقت فقد الناسُ فيه حقيقة ایمان کی حقیقت کو کھو چکے ہیں۔کیا وہ کہتے ہیں کہ الإيمان؟ أم يـقـولـون افتراه اس نے افترا کیا ہے حالانکہ انہوں نے میرے نشان و قد رأوا آیاتى ثم ألقوها دیکھے پھر ان نشانات کو انہوں نے نسیان کے پردوں کے پیچھے پھینک دیا۔وراء حجب النسيان؟