مواہب الرحمٰن — Page 75
مواهب الرحمن ۷۵۔اردو تر جمه عما يفعل وهم يُسألون يسمون کے متعلق اس سے پرسش نہیں کی جاتی جبکہ اُن المسيح حَكَمًا ثم أنفسهم سے پرسش کی جائے گی۔وہ نام تو مسیح موعود کا يحكمون۔أم رأوا في القرآن ما حكم رکھتے ہیں لیکن اپنے آپ کو حکم بنالیتے يزعمون؟ فليخرجوه لنا إن كانوا ہیں۔کیا وہ اپنے مزعومہ عقیدہ کو قرآن میں پاتے يصدقون۔يا أسفا عليهم ! إن ہیں؟ اگر وہ بچے ہیں تو اسے ہمارے سامنے پیش يتبعون إلا الظن و ليس الظن کریں۔اُن پر افسوس کہ وہ محض ظن کی پیروی شيئا إذا خالفه المرسلون۔بل کرتے ہیں ایسے ظن کی کوئی حیثیت نہیں جو يحكمون أنفسهم في الله ورسله ويجترء ون، ويصرون على ما مرسلوں کے قول کے خلاف ہو۔بلکہ وہ اللہ اور اس ليس لهـم بـه عـلم ولا يخافون۔کے رسولوں کے متعلق اپنے آپ کو حکم بناتے ہیں ومن العجب أنهم ينتظرون اور بیبا کی دکھا رہے ہیں اور جس کا انہیں علم نہیں الحكم ثم يقولون إنهم من الزلل اس پر مصر ہیں اور ڈرتے نہیں۔تعجب کی بات ہے لمحفوظون ! ولا يريدون أن کہ وہ حکم کا انتظار کرتے ہیں لیکن پھر بھی کہتے ہیں يتركوا قولا من أقوالهم۔فما يفعل كه وه لغزشوں سے محفوظ ہیں۔وہ اپنی کسی بات کو الحَكَمُ إذا جاء هم فإنهم چھوڑنا نہیں چاہتے پس حکم کیا کرے گا جب وہ بزعمهم في كل أمر مصيبون۔اُن کے پاس آئے گا کیونکہ بزعم خویش وہ ہر معاملہ وإن ظهور المسيح من هذه الأمة، ليس أمر يعسر فهمه على میں صائب الرائے ہیں۔اس امت میں سے مسیح کا ظہور ایسا معاملہ نہیں جس کا سمجھنا عقلمندوں کے ذوى الفطنة، بل تظهر دلائله عند التأمل في المقابلة، أعنى لئے مشکل ہو۔بلکہ (اس) مقابلہ یعنی سلسلہ محمدیہ عند موازنة السلسلة المحمدية اور سلسلہ اسرائیلیہ کے موازنہ پر غور کے وقت اس بالسلسلة الإسرائيلية ، ولا شك ( دعوى ) کے دلائل ظاہر ہو جاتے ہیں۔اور بلاشبہ أن سيدنا سيد الأنام وصدر ہمارے آقا سردار دو جہاں بانٹی اسلام ( حضرت الإسلام، كان مثيل موسى محمد مصطفی اع) مثیل موسیٰ ہیں۔