مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 53

مواهب الرحمن ۵۳ اردو تر جمه ليظهر صدق ما خرج من فيه۔ولو تا اُس کے منہ سے جو بات نکلی تھی وہ اُس کی سچائی کو لم يكن كذالك فكيف كان من ظاہر کر دے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا الممكن أن يظهر الآية کہ یہ نشان ظاہر ہوتا اور ہمارے لئے حفاظت اور ويتحقق لنا الحفظ والحماية؟ حمایت متحقق ہوتی۔اور بخدا اگر اس بستی کے رہنے ووالله إن لم يهلك أهل تلك والے ہلاک نہ ہوتے تو میں ضرور ہلاک ہو جاتا القرية لهـلـكـتُ والـحـقـت اور کا ذبوں میں شمار کیا جاتا کیونکہ میں یہ شائع کر بالكاذبين، لأنى كنت أشعت چکا تھا کہ عافیت ہمارے ساتھ ہے۔اور یہی أن العافية معنا وهذا هو معيار طالبان حق کے نزدیک ہماری سچائی کا معیار ہے اور صدقنا عند الطالبين، ولو ظهر عكسه فهو من أمارات كذبي ، اگر معاملہ اس کے برعکس ظاہر ہوا تو یہ میرے جھوٹ فليكذبني عند ذالك من كان من کی نشانیوں میں سے ہوگا اور اس صورت میں المكذبين۔وكانت هذه المصارعة | تکذیب کرنے والے میری ضرور تکذیب کریں كدريةٍ في أعين الناس، وكنت اور یہ کشتی لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئی اور میری كمعلق إما أن أحى وإما أن أقتل حالت ایک معلق شخص جیسی تھی کہ یا تو میں اس في هذا البأس۔فأراد الله أن جنگ میں زندہ رہتا یا پھر قتل کیا جاتا۔پس اللہ نے يغلبني كما غلبني من قبل في ارادہ فرمایا کہ وہ مجھے غلبہ عطا کرے جیسا کہ اس نے مواطن، فليس على الحكومة پہلے بھی مجھے بہت سے میدانوں میں غلبہ عطا کیا ذنب بل كان آية عند ربّى فأظهر ہے۔پس یہ حکومت کا قصور نہیں بلکہ یہ میرے ربّ و أعلن۔ولا بد من أن نقبل أن کی طرف سے ایک نشان ہے جو اس نے ظاہر اور هذه الحادثة كانت داهية آشکار فرمایا لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کر لیں عظمى، ومصيبة كبرى، وترتعد الفرائص إلى هذا اليوم بتصوّر كه يہ حادثہ ایک عظیم آفت اور بڑی مصیبت تھی۔هذه الواقعة، ولا نجد مثلها في اور آج تک اس واقعہ کے تصور سے شانے لرز رہے الأيام السابقة ہیں۔اور ہم اس کی مثال گزشتہ زمانہ میں نہیں پاتے۔