مواہب الرحمٰن — Page 52
مواهب الرحمن ۵۲ اردو تر جمه وأسرجوا جواد الأوبة، وبهتوا اور اپنے واپسی کے گھوڑے پر زین کسی اور آسمانی مما ظهر من الأقدار السماوية۔تقدیروں کے ظہور پر وہ مبہوت ہو گئے۔بعد ازاں وبعد ذالك ثني الله عنان اللہ نے نہ صرف ٹیکا لگانے ) جیسے مشتبہ کاموں پر الحكومة عن الإسرار على هذه اصرار کرنے سے حکومت کا رخ موڑ دیا بلکہ ٹیکا الأعمال المشتبهة ، بل أنفت لگوانے پر حکومت نے اس سختی کو جو گذشتہ عرصے الدولة من شدة كانت في الأزمنة میں ہوتی رہی نا پسند کیا۔اور اس کا باعث آنِ واحد السابقة ، وذالك بما ضاعت به میں رعایا کی انہیں جانوں کا ضیاع تھا۔اور برقی نفوس تسعة عشر من الرعية پیغاموں کے ذریعے ( حکومت کی طرف سے ) ٹیکا في ساعة واحدة۔ومنع التطعيم لگوانے سے روک دیا گیا۔بعد ازاں نرمی اور بالرسائل البرقية، ثم أخذ طريق آہستہ روی اختیار کی گئی اور اس طریق کو چھوڑ دیا الرفق والتؤدة، وتُرك طريق گیا جو عوام الناس کی نگاہوں میں مشابہ بالجبر تھا۔يشابه الجبر في أعين العامة ولا بلا شبہ اس سلطنت (برطانیہ) نے رعایا پر شفقت شك أن هذه الدولة ما آلث کرنے میں کوئی کمی اور اپنی کوشش میں کوئی دقیقہ شفقة، وما تركت فى جهدها فروگذاشت نہ کیا۔اور ( حکومت نے ٹیکا لگوانے دقيقة، وما اختار التطعيم إلا بعد کا عمل اُس میں فائدہ دیکھ کر ہی اختیار کیا تھا۔اور ما رأت فيه منفعة۔والحق أن الأمر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ ایسا ہی تھا تا آنکہ ہم نے (۲۲) كان كذالك إلى أن خالفناه من اس کی آسمانی وحی کے باعث مخالفت کی۔پس اللہ وحي السماء ، فأراد الله أن نے ارادہ کیا کہ وہ ہمارے قول کی تصدیق فرمائے يصدق قولنا وينجينا من السن اور ہمیں جاہلوں کی موشگافیوں سے نجات دے۔الجهلاء ، فعند ذالك أبطل نَفْعَ سو اس صورتِ حال میں اللہ نے ٹیکا لگوانے کے التطعيم، وأحدث مضرة فيه، فائدہ کو باطل کر دیا اور اس میں نقصان پیدا کر دیا ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے ”الاسرار“ لکھا گیا ہے درست الاصرار‘ ہے۔(ناشر)