مواہب الرحمٰن — Page 49
مواهب الرحمن ۴۹ اردو ترجمه الذي أشعته قبل هذا النعي اندوہناک موت کی خبر سے پہلے شائع کر دیا تھا اور الأليم، وقلت إن العافية معنا لا میں نے کہا تھا کہ خیر و عافیت ہمارے ساتھ ہے نہ کہ مع أهل التطعيم۔وإنه آية من شيكا لگوانے والوں کے ساتھ۔اور یہ بڑے نشانات الآيات، ومعجزة عظيمة من میں سے ایک نشان اور معجزوں میں سے ایک عظیم المعجزات، فنُسَرّ بها ومع ذالك معجزہ ہے۔سو ہم اس کے ظہور پر خوش ہیں لیکن اس نیکی على الثبات الباکیات کے ساتھ ہی ہم آہ و بکا کرنے والی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں جنہوں نے قبل از وقت اس معالجہ سے واليتامى الذين ودعوا آباء هم قبل اپنے آباء کو رخصت کر دیا کے غم میں روتے بھی وقتهم بتلك المعالجات فيا فاعلی یوم عُرضوافیہ ہیں۔پس افسوس ہے اُس دن پر کہ جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ٹیکا لگوانے کے لئے پیش کیا اے للتطعيم، وليت شعرى لو أتونى کاش ! اگر وہ میرے پاس مومن ہو کر آتے تو وہ مؤمنين لحفظوا من هذا البلاء العظيم۔وما أدراك ما هذه اس بلائے عظیم سے ضرور بچائے جاتے۔تجھے کیا معلوم کہ یہ آفت کیا ہے، پھر تجھے کیا معلوم کہ یہ الآفة، ثم ما أدراك ما هذه آفت کیا ہے۔سو تجھے معلوم ہو کہ ہمارے اس الآفة؟ فـاعـلـم أن في أرضنا هذه ملک میں ایک بستی ہے جسے ملکوال کہتے ہیں اتفاقاً قرية يقال لها ملكووال، فاتفق أن ٹیکا لگوانے والا عملہ مردوں کی ایک جماعت کے عملة التطعيم وافوا أهلها مع ساتھ اُس بستی کے رہنے والوں کے پاس پہنچا اور حزب من الرجال، ودعوهم إلى انہوں نے نرمی اور تدبیر سے انہیں ٹیکا لگوانے کے هذا العمل بالرفق عمل کی طرف بلایا۔اس طرح ان کی ہلاکت والاحتيال۔فقيض القدر لتتبيرهم اور تباہی مقدر ہو گئی۔وہ اس عملے کے پاس وتدميرهم أنهم حضروا تلك آئے اور وہ ٹیکا لگوانے والے تعداد میں انیس العملة، وكانوا تسعة عشر نفرا تھے۔آپ ان کے نام حاشیہ میں پڑھ سکتے ہیں،