مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 33

مواهب الرحمن ۳۳ اردو ترجمه فی بیان ما ظهر بعد ذالك من بعد ازاں ظہور پذیر ہونے والے نشانات الآيات والمعجزات والتائيدات معجزات اور تائیدات کا ذکر ثم بعد هذا عَمَّ الطاعون پھر اس کے بعد اس ملک کے لوگوں میں طاعون طوائف هذه البلاد، ووقع الناس عام ہو گئی۔اور لوگ ٹڈیوں کی طرح ڈھیر ہوتے صرعى كالجراد، وافترسهم گئے۔اور اس مرض نے ایک غضبناک شیر یا هذا المرض كالأسد الغضبان، بھیڑوں کے ریوڑ میں تباہی مچانے والے بھیڑیئے أو كذئب عائث في قطیع کی طرح ان کو چیر پھاڑ دیا۔کتنے ہی گھر تھے جو الضان۔وكم من دار خربت ویران ہو گئے اور ہلاکت نے ان کے مکینوں پر حملہ وصال الفناء على أهلها، کیا۔اور زمین تھرا اٹھی۔اور اُس زمین کے سنگلاخ اور میدانی علاقوں پر آفت آن پڑی۔اور على وعرها وسهلها۔وما ترك اس بیماری نے کوئی جگہ نہ چھوڑی اور تمام علاقوں کو هذا الداء مقاما بل جاب عبور کرتی ہوئی اس ملک کے آخری کناروں تک والأرض زُلزلت وصبت الآفة الأقطار، وتقصى الديار، ووطأ البدو والحضر، وأدرك كل من حضر، وما غادر أهلَ حُلل ولا پہنچ گئی۔اور دیہاتوں اور شہروں کو لتاڑ کر رکھ دیا۔اور جو بھی سامنے آیا اُسے اپنی گرفت میں لے لیا۔اور اس أطمار، ودخل كل دار ، إلَّا الذي نے نہ خوش پوشوں کو چھوڑا اور نہ گدڑی پوشوں کو۔اور ہر گھر میں گھس گئی۔سوائے اس کے جسے عُصم من رب غفار۔وكذالك حـضـر أفواج منهـم مــادبـة رب غفار کی طرف سے محفوظ رکھا گیا۔اور یوں ۲۷ الطاعون، ورجعوا بمائدة من ان کے گروہوں کے گروہ طاعون کی دعوت میں المنون، وجاؤوا كأضياف دار آئے اور موت کا خوان لے کر واپس گئے۔اور وہ هذا الوباء ، فقدمت إليهم كأس اس وبا کے گھر میں مہمانوں کی طرح آئے تو اُن کو الفناء۔فالحاصل أن الطاعون قد موت کا پیالہ پیش کیا گیا۔حاصل کلام یہ کہ طاعون لازم هذه الديار ملازمة الغريم، اس ملک کے ساتھ ایسی چمٹی جیسے قرض خواہ