مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 158

مواهب الرحمن ۱۵۸ اردو ترجمہ من قام للجواب وتنمر ، فسوف | جو شخص سخت غضبناک ہو کر اس کتاب کا جواب لکھنے يرى أنه تندم وتدمر " فجعل کے لئے تیار ہو گا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم الفيـضـى نـفـسـه درية كل وحى ہوا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔ پس ذكرت، وغرض كل إلهام إليه (محمد حسن ) فیضی نے اپنے آپ کو میری اس مذکورہ أشرتُ، حتى أسكته الموت من وحی کا ہدف اور میرے ہر اس الہام کا جس کی طرف قاله وقيله، وردّه إلى سبيله ۔ وكذالك صار نذير حسين الدهلوى درية وحى الله " تخرج الصدور إلى القبور فإنه میں نے اشارہ کیا ہے نشانہ بنالیا تا آنکہ موت نے اسے اس کی قیل و قال سے خاموش کر دیا اور اسے اس کی راہ دکھائی۔ اور اسی طرح نذیر حسین دہلوی بھی اللہ تعالیٰ کی وحی ” مخالفین کے سرگر وہ قبروں کی طرف منتقل کئے جائیں گے“ کا نشانہ بنا۔ کیونکہ وہ كان أول من كفرني و اذانی و فر پہلا شخص تھا جس نے مجھے کافر ٹھہرایا اور مجھے من النور ۔ و كانت سنة وفاته اذیت دی۔ اور نور سے فرار اختیار کیا۔ اس کا سال مات الهائـمـا ۱۳۲ھ بـحسـاب وفات بحساب جُمَل مَاتَ ضَالٌ هَائِمًا يعنى الجمل۔ ومات ناقصا ولم يُصِبُ ۱۳۲۰ ھ تھا۔ وہ ناقص حالت میں مرا اور اُسے حظا من الكمل ۔ ومن آياتي شهرة كاملین میں حصہ نہ ملا۔ میرے نشانوں میں سے اسمى بالإكرام والتكرمة، في ایک نشان ان موعودہ سالوں میں عزت اور اکرام هذه السنوات الموعودة ۔ وإن الله کے ساتھ میرے نام کی شہرت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ كان خاطبني وبشرني بإكرامي نے مجھے مخاطب کیا اور مجھے سختی کے زمانہ میں اکرام وقبولي في زمن البأس، وقال :" اور قبولیت پانے کی بشارت دی اور فرمایا کہ تو أنت مني بمنزلة توحیدی میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید و تفرید ہے۔ پس ۱۳۸ و تفريدى، فحان أن تُعان وہ وقت آن پہنچا ہے کہ تیری مدد کی جائے اور وتُعرف بين الناس " وقال : تجھے لوگوں میں شہرت دی جائے۔ نیز فرمایا :