مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 157

مواهب الرحمن ۱۵۷ اردو تر جمه " إهانتك، وإنى معين من أراد تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔اور میں اُس شخص کی إعانتك۔إني أنا الصاعقة اعانت کروں گا جو تیری اعانت کا ارادہ کرے گا۔میں تخرج الصدور إلى القبور۔إنا صاعقہ ہوں۔مخالفین کے سرگروہ قبروں کی طرف تجالدنا فانقطع العدو وأسبابه۔" منتقل کئے جائیں گے۔ہم نے جنگ کر کے دشمن کو ثم بعد ذالك آذانی رجل بغیر مغلوب کیا اور اس کے تمام اسباب کاٹ دیئے۔بعد حق اسمه "مـحـمـد بـخـش ازیں مجھے محمد بخش نامی ایک شخص نے ناحق ایذا وجرني إلى الحكومة، فصار پہنچائی اور مجھے حکام تک لے گیا۔وہ میرے رب لوحي ربي۔۔أعــنـــى کی وحی یعنی تـجـالـدُ نَـا کا نشانہ بن گیا اور طاعون تجـالدنا۔۔كالدرية، ومات سے مرگیا اور بہت جلد اس کی زندگی کی ڈور منقطع بالطاعون وانقطع خيط حياته ہوگئی۔میں نے اس وحی کو اُس کی زندگی میں ہی بالسرعة، وكنتُ أشعتُ هذا شائع کر دیا تھا اور اسے اس سے خبر دار کر دیا تھا الوحي في حياته وأنبأته به فما لیکن اُس نے اُس کی کوئی پرواہ نہ کی اور تمسخر کرتا رہا۔پھر اس کے بعد ایک اور شخص محمد حسن فیضی نامی ذالك قام رجل لإيذائي اسمه میری ایذارسانی کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور وہ میرا بد بالی ومـضـى بـالـسـخـرة۔ثم بعد "محمد حسن فيضي "، وكان ترین دشمن تھا۔اُس نے مجھے سب وشتم کیا اور میری أعدى أعدائي، وسبني وشتمنی رسوائی اور ہلاکت کی پوری کوشش کی۔مجھ پر لعنت وسعى لإفنائي وإخزائي، ولعنني ڈالی۔آخر میرے رب نے اس پر لعنت کی اور جو حتى لعنه ربّى وردّ إليه ما عزا إلى نفسى۔فما لبث بعده إلا قليلا اس نے میری ذات کی طرف منسوب کیا وہ سب من الأيام، حتى رأى وجه اُس پر الٹا دیا۔اس کے بعد اُس نے چند روز ہی الحمام۔وكنت كتبت في كتابی گزارے تھے کہ موت کا منہ دیکھ لیا۔نیز میں نے اپنی "الإعجاز"، ملهما من الله الذى كتاب اعجاز اسیح میں اللہ سے جو اضطراب کے يجيب المضطر عند الارتماز وقت مضطر کی دعا سنتا ہے الہام پا کر تحریر کیا تھا: کہ ۱۲۷