مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 152

مواهب الرحمن ۱۵۲ اردو تر جمه لا دودة عناد وإباء ، فلا يعسر کا کیڑا نہیں ہے تو تجھے اس نشان کے سمجھنے میں کوئی عليك فهم هذه الآية، بل دشواری پیش نہیں آئے گی۔بلکہ تجھے اس پر پورا تستيقنها كل الإيقان وتمتنع من یقین ہو جائے گا اور تو ہر طرح کی گمراہی سے باز الغواية۔إن شهد لأمر عدلان من آجائے گا۔اگر کسی معاملہ میں دو عادل مسلمان المسلمين، فيتحقق صدقه عند گواہی دیں تو فقہاء کے نزدیک اس کی صداقت المتفقهين، فما بال أمر يشهد له ثابت ہو جاتی ہے۔پھر اُس امر کی شان کے کیا ألوف من المسلمين؟ ولا بد لهم کہنے ، جس کے حق میں ہزاروں مسلمان گواہی أن يشهدوا إن كانوا متقين۔وإن دیں۔اور اگر وہ متقی ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ شئتم فاسألوا أبا السعيد الذي گواہی دیں۔اور اگر تم چاہوتو ابوسعید (محمد حسین هو من أئمتكم، بل من أجل بٹالوی) سے پوچھ لو جو تمہارے اماموں میں سے الأفراد من فئتكم، وقد كتب ہے۔بلکہ وہ تمہارے گروہ کا جلیل القدر شخص ہے تقریظًا على كتابي "البراهين"، اور اس نے میری کتاب براھین احمدیہ پر ریویو بھی وكان يوافينى فى ذالك الحين۔لکھا تھا اور اُس زمانے میں وہ میرا ہمنوا تھا پس فاسألوه كم من جماعة كانت اس سے پوچھو کہ اُس زمانے میں میری جماعت ۱۲۳) هي في ذالك الزمان، وإن کتنی تھی۔اور اگر تم کسی دلیل کے بغیر اس کی تستضعفوا شهادته من غير شہادت کو ضعیف تصوّر کرو تو پھر ان سب لوگوں البرهان، فاسألوا كل من هو سے دریافت کر لو جو میری بستی (قادیان) میں موجود في قريتي وما لحق بها من البلدان۔ووالله ما كنت فى موجود ہیں یا اس سے ملحقہ علاقوں میں رہتے ہیں۔زمن تأليفه إلا كفتيل، أو كخامل بخدا براهین احمدیہ کی تالیف کے وقت میں کھجور کی ذليل، وكنت لا يعرفني إلا قليل گٹھلی کے ریشے یا ایک گمنام بے حیثیت شخص کی من سكان القرية، فضلا عن أن طرح تھا مجھے خود اس بستی کے چند باشندے ہی أوقر في أعين طوائف العلماء جانتے تھے چہ جائیکہ علماء کے گروہ یا اہل ثروت اور