مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 144

مواهب الرحمن ۱۴۴ اردو تر جمه كالحيران۔ولا حاجة إلى إعادة | اور اس خوشی اور اس فتح ونصرت کے ذکر کے اعادہ ذكر هذه الفرحة والفتح کی ضرورت نہیں۔کیونکہ تو نے یہ تو سن ہی لیا ہے والنصرة، فإنك سمعت كيف كه دشمن کس طرح ذلت وخواری اور لعنت کا داغ انكفأ العدوّ بالخيبة والذلة لئے ہوئے پسپا ہوا۔اور میں نے اپنی قسم کے ووصمة اللعنة، وأرصدته ذریعہ اسے لعنت اور برکت میں سے کسی ایک کے بإحلافي إياه للعنة والبركة، لئے آمادہ کیا۔پس اُس نے بار لعنت اٹھا لیا۔اور فحمل اللعنة وذهب بها من هذه اسی لعنت کو اٹھائے ہوئے وہ یہاں سے چلا الناحية۔وأما الفتح الذى أُخفي گيا۔مگر وہ فتح جواب تک لوگوں کی نگاہوں سے مخفی إلى هذا الوقت من أعين الناس، رہی وہ ایسے واضح نشانات ہیں جو دشمنوں کے فهی آیات وضعت على رأس سروں پر کلہاڑے کی طرح گرے۔ہم نے معجزوں العدا كالفأس۔وكنا ناضلنا کے ذریعہ جنگ لڑی جیسے جنگ میدان میں لڑی بالإعجاز كما يتناضل يوم جاتی ہے۔پس اللہ نے ہر میدان میں ہماری البراز، فنصرنا الله في كل نصرت فرمائی۔اور ہم نے ہر معدن سے سونا موطن، وأخرجنا الذهب من كل نکالا۔اور میں نے لوگوں کو بر ملا یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ معدن۔وكنتُ قلت للناس إن تین سال تک میرے لئے ایک ایسا عظیم الشان الله سيظهر لى آية إلى ثلاث نشان ظاہر فرمائے گا جس میں مخلوق میں سے کسی 1 سنين، لا تمسها يد أحد من انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہوگا۔اور اگر وہ نشان ظاہر نہ العالمين، فإن لم تظهر فلستُ ہوا تو میں راستبازوں میں سے نہیں۔پس ہر من الصادقين فالحمد لله على تعریف اللہ کے لئے ہے کہ اس نے نشانات ظاہر ما أظهر الآيات و أخزى العداء فرمائے اور دشمنوں کو رسوا کیا۔اور ہم مناسب سمجھتے ونرى أن نكتبها مفصلة لكل من ہیں کہ ہم ان نشانات کو ہر اُس شخص کے لئے جو ہدایت کا طالب ہے تفصیل سے لکھیں۔يبتغى الهدى۔