مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 143

مواهب الرحمن ۱۴۳ اردو ترجمه دينه وشعاره قاتله الله ! کیف سو یہ ہے اس کے دین اور شعار کا نمونہ۔اللہ اسے نكث الحلف بالجرأة فيا ربّ، نابود کرے! کس جرات کے ساتھ اس نے حلف شکنی أذقه طعم نقض الحلفة۔وقد حق کی۔اے میرے رب! تو اُسے اُس کی حلف شکنی کا القول منى أنه لا يوافيني لإزالة مزہ چکھا۔اور میری یہ بات سچ نکلی کہ شبہات کے الشبهات، ولا يميل إلَّا إلى ازالہ کے لئے وہ کبھی میرے پاس نہیں آئے بهتان و كيد وفرية كما هي عادة گا۔اور جیسا کہ دشمنوں اور جاہلوں کا شیوہ ہے وہ أهل المعاداة والجهلات۔وكان صرف بہتان تراشی ، چالبازی اور کذب بیانی کی هذا الـرجـل عـزم عـلـى مماراة طرف ہی مائل ہوگا۔اور یہی وہ شخص ہے جس نے مشتدّة الهبوب ، و مباراة مشتقة تند و تیز مباحثے اور نہایت اشتعال انگیز مقابلے کا اللهوب، ليشتبه الأمر علی عزم کیا تا عوام پر یہ معاملہ مشتبہ ہو جائے اور صدق العوام، وليخفی صدق الکلام کلامی کمینوں کے شور تلے چھپ جائے۔پھر جب تحت نهيق اللئام فلما لم ترفيه ہم نے اس شخص میں تقویٰ اور دانائی کا کوئی نشان سيماء التقى، ولا أثر الحجى اور اثر نہ دیکھا۔تو ہم نے ارادہ کیا کہ اس معاملہ کو أردنا أن نخرج الأمر من الدُّجى۔تاریکی سے باہر نکالیں۔اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو و قد سبق منى عهدى في ترك چکا ہے میں مباحثات ترک کرنے کا عہد کر چکا (۱۱۵) المباحث كما مضى، وكان هذا ہوں۔اور یہ معاملہ میرے علام الغیوب اور دلوں أمرًا من ربّى الذى يعلم الغیوب پر نظر رکھنے والے رب کی طرف سے تھا۔سو ہم اس ويُنقد القلوب فتحامينا ،کیده کی چال بازی سے الگ ہو گئے اور اس کو اسی کا وجعلنا نفسه صیده۔وحينئذ شکار بنا دیا اور اس وقت مجھے دو خوشیاں ملیں اور دو حقت بی فرحتان، وحصل لى فتحیں حاصل ہوئیں۔میں نہیں جانتا کہ میں اُن فتحان، ولم أدر بأيهما أنا أوفى دونوں میں سے کس پر زیادہ نازاں و فرحاں مرحًا وأصفى فرحًا، فشكرتُ ہوں۔سو میں نے حیرت زدہ شخص کی طرح شکر کیا